Skip to product information
1 of 1

اردو افسانہ | متنوع اسالیب و جہات | صباحت مشتاق

اردو افسانہ | متنوع اسالیب و جہات | صباحت مشتاق

Regular price Rs.750.00
Regular price Rs.1,000.00 Sale price Rs.750.00
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.

اردو افسانہ | متنوع اسالیب و جہات | صباحت مشتاق

اردو افسانے کو آغاز ہی سے فکری تحریکوں کے اثرات نے بہت ثروت مند بنادیا۔ سمادہ بیانیہ کی تحریک نے جو ایک حوالے سے علی گڑھ تحریک ہی کا تسلسل تھی، اظہار کی معنویت میں وسعت پیدا کی اور افسانے میں مقصدیت کی اہمیت کو واضح کیا لیکن یہ بیانیہ علی گڑھ کے سادہ بیانیہ سے قدرے مختلف تھا۔ پریم چند نے واضح کیا کہ ادب ایک فنی معاملہ ہے اور فنی جمالیات کے بغیر اس کی کوئی حیثیت نہیں، چنانچہ ان کے سادہ بیانیہ میں رومانوی اسلوب کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے برعکس یلدرم کے رومانوی انداز تحریر نے اسلوب کی اہمیت کا احساس دلایا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اگر پریم چند کے اسلوب میں رومانوی انداز تحریر کے خصوصیات موجود ہیں تو یلدرم کے اسلوب پر پریم چند کے سادہ بیانیہ کے اثرات موجود ہیں۔ صباحت مشتاق نے بڑی ہنر مندی سے دونوں اسالیب کا تجربہ کیا اور اس دور کے ان دونوں
اسالیب کے لکھنے والوں کے فن کا جائزہ لیا ہے۔
انگارے کا اسلوب اگر چہ سادہ بیانیہ کا تسلسل ہے لیکن لکھنے والوں کی تکنیکی مہارت نے اسے
پہلے دور سے مختلف کر دیا ہے۔ شعور کی رو اور دوسری تکنیکی ہنر مندیوں سے انگارے کے اسلوب میں واضح فرق کو نمایاں کیا یا ہے۔ 36 ء کے بعد کے ترقی پسند اور حلقہ ارباب ذوق کے افسانہ نگاروں نے اگر چه سادہ بیانیہ کی روایت کو آگے بڑھا یا لیکن یہ سادہ بیانیہ پریم چند سے آگے کا ہے۔ اس سادہ بیانیہ میں ایک ندرت اور ادبی جمالیات کے اثرات موجود ہیں۔ علامتی اسلوب نے ایک نئی تصویر بنائی جو جدید سے مابعد جدیدیت تک اپنا ایک تسلسل رکھتی ہے۔ یہ علامتی اسلوب اگر چہ سادہ بیانیہ کا ردعمل ہے لیکن جس طرح ہر تحریک کے آخر میں ایک نئی تحریک جنم لیتی ہے، اسی طرح علامتی اسلوب بھی ترقی پسند اسلوب کا اگلا مرحلہ ہے۔

صباحت مشتاق نے اپنے مقالے میں ان تمام ادوار کی اسلوبی خصوصیات کا فنی تجزیہ کیا ہے اور مختلف افسانہ نگاروں کے یہاں اس کے فنی پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔ اردو افسانے سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ مقالہ بہت سے نئے گوشوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ مقالہ کی زبان بڑی رواں اور اس کا تحقیق و تنقیدی معیار بہت عمدہ ہے۔ اس مقالے کی اشاعت سے اردو افسانے کے نئے معیار اور نئے اسالیب سے آشنائی ہوگی۔
رشید امجد

 

7-Days Buyer Protection

View full details